عیسیٰ خیل

  40   سماجی   October 18, 2020

تحریر

Guest Post

October 1, 2018

 
میڈم نور جہاں نے پنجابی زبان کا گانا "چل چلیےعیسیٰ خیل، جتھے چلدی اے چھوٹی ریل" گا کرعیسیٰ خیل کے شہر کو شہرت بخشی تھی اور پھرعیسٰی خیل ہی کا ایک بیٹا عطاءاللہ خان عیسٰی خیلوی نے اردو پنجابی سرائیکی کے سینکڑوں مقبول ترین گانے گا کر اپنی دھرتی کا قرض ادا کردیا۔ رہی بات چھوٹی گڈی والی ریل کی جو انگریز دور میں ماڑی انڈس ریلوے جنکشن سے چل کر کمرمشانی، خدو زئی، تاجہ زئی ،پیزو عیسیٰ خیل، سرائے نورنگ، لکی مروت سے بنوں جا پہنچتی تھی۔ ریلوے کا یہ نظام اسٹریٹجک ریلوے لائن کہلاتا تھا جو اب باقی نہیں رہا۔ ریلوے لائن وغیرہ سب اکھیڑ دی گئی ہے۔ علاوہ رفاہ ِ عامہ کے اس انتظام کا مقصد اسقدر فوجی تھا کہ بنوں کے وزیری اور محسودی قبائل جو انگریزی سلطنت کی حدود میں گھس کر کاروائیاں کرتے تھے ان کا انسداد کرنا بھی مقصود تھا۔ آج ہم قبائلیوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے جو جتن کر رہے ہیں اگر یہ ریل کا نظام اپنی جگہ پر رہتا تو بڑی خوش اسلوبی سے سرحد و پنجاب کی سرحد پر امن و امان اور تجارت کو فروغ ملتا۔ اب یہ قصہ ء ماضی ہے۔ وہ ہمارا بچپن کا حسین خواب تھا جو چکنا چور ہوا۔ ماڑی تا بنوں یہ علاقہ مختلف اقوام کا گھر تھا جب چھوٹی ریل اس کے میدانی علاقوں سے گزرتی تو لوگ حیرت سے اسے دیکھا کرتے تھے۔ محنت کش وام کے لیے ریل گاڑی کی کُوک سے ان کے دلوں میں ہجر و وچھوڑے کی ایک ہوک اٹھا کرتی تھی۔ انگریز نے اپنے دور کے ہندوستان کو ایک کونے سے دوسرے کونے تک اسے یکجان و یک قالب کر دیا تھا ۔ اوپر سے پنجاب کا نہری نظام جو پیداوار دیتا تھا ایک اناج گھر تھا۔ اب جیسا فضائی آلودگی کا ماحول نہ تھا اور بے محابا ٹریفک بھی نہ تھی۔درہ گومل اور درہ ء بولان کی راہ پر میانوالی عیسیٰ خیل کا وجود تجارت کے لیے سنہری مواقع کا علاقہ تھا۔ ساری برسوں پہلی کاروانی تجارت انہی علاقوں سے ہو کر پنجاب کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہوا کرتی تھی۔عیسیٰ خیل نیازی پٹھانوں کا ایک بنیادی معزز قبیلہ ہے۔ میانوالی کے سارے نیازی اسی قبیلے سے نکلے ہوئے ہیں جو بعد میں اٹھارویں نصف صدی میں دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر موجودہ جگہوں پر آباد چلے آتےہیں۔ جب فرنٹیئر صوبہ ۱۹۰۱ میں صوبہ قرار پایا تو میانوالی ضلع بھی اسی سال ۱۹۰۱ میں پنجاب کا ضلع قرار پایا ۔ عیسٰی خیل اسی ضلع کی ایک تحصیل ہے۔عیسٰی خیل نیازیوں نے چودھویں پندرھویں صدی میں آن کر پہلے پہل تیتا من پہاڑی کے دامن میں پڑاؤ ڈالاپھر ترنا کا شہر بسایا۔ ترنا کا لفظ 'ترن' یعنی تیرنے کا مفہوم رکھتا ہے یعنی ترنا کا علاقہ کلیتاً ایک ریوَر کنٹری تھاجس کی جگہ پر پھر عیسٰی خیلوں کے مؤرث اعلی عیسٰی خان نیازی کے نام پر عیسٰی خیل کا نیا شہر بسایا گیا۔یہاں کے پٹھان قبائل نے ضلع بنوں کے انگریز پولیٹکل ایجنٹ یعنی ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں ملتان کی بغاوت فروع کرنے میں حصہ لیا۔ بعد میں ۱۸۵۷ میں اسی انگریز قوم کے ہیرو جان ایڈورڈزکی قیادت میں دہلی کے تاریخٰ غدر میں باغیوں کے سر اڑائے تھے۔ انگریز سے قبل سکھ پنجابی بنوں پر قابض رہے۔ ادھر منکیرہ کے نواب حافظ رحمت خان بھی عیسٰی خیل بنوں میں مسلسل مداخلت کرتا رہا اور بنوں کے پٹھانوں میں کالوں گوروں کے درمیان لڑائیاں انہی کا ایک وزیر کرواتا رہا تھا ۔ کچھی میانوالی کی زمینات میں بھی سکھی راج نے ایک مقدس جنگ 'گھلوگھارا' کے نام سےلڑی تھی۔درحقیقت یہ ہندوستان کے علاقہ بہار کے ایک مشہور صوفی بزرگ عبداللہ نیازی کے پیروکاروں کے درمیان اجتماعی کاشت کرنے کا اشتراکی نظام چلانے کی وجہ سے ہوئی تھی۔سکھوں نے اس جنگ میں فقیروں کی بہت بڑی تعداد کو قتل کر دیا تھا اسی وجہ سے اس زمین کا نام 'گھلوگھارا' یعنی خون سے تر زمین پڑ گیا۔ عیسیٰ خیل کے نیازی رزم و بزم اور محاربات کے شوقین لوگ چلے آتے ہیں۔ نیازی پٹھان ہندوستان کی پٹھان افواج کا بھی حصہ رہے تھےجن میں ہیبت خان نیازی اور عیسیٰ خان نیازی کا ذکر بھی آتا تھا۔ یہ شیر شاہ سوری کا دور تھاجب شیر شاہ سوری کی اولاد میں تخت نشینی پر جھگڑے اٹھ کھڑے ہوئے، جو ۱۵۳۵کا دور تھا۔ اسلام شاہ سوری بادشاہ نیازی قوت سے ٹکرا گیا۔ کالا باغ دھنکوٹ کے مقام پر پے در پے دو جنگیں ہوئیں ۔ آخری جنگ میں ہیبت خان کے مقابلے میں انہی کے رشتہ دار قبیلے مروت کا نوحانی جرنیل مقابلے پر تھا۔نیازیوں کو شکست ہوئی اور وہ کشمیر کی جانب ہجرت کر گئے اور وہاں کی گھریلو خانہ جنگیوں میں ملوث ہو کر ہیبت خان بھی مارا گیا۔ ہیبت خان کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے اس کی بیگم ذکیہ خانم بھی شدید زخمی ہوئی تھی اور سارا خاندان اسلام شاہ سوری کا قیدی بن گیا۔ عیسٰی خیلوں کو اپنی اصل نسل پر بڑا فخر ہے۔ ایک مرتبہ ایک انگریز کرنل کو نیازی عیسٰی خیل نے ایک جڑاؤ دار خنجر دکھایا جیسے پدرم سلطان بود میں ہوتا ہےمگر انگریز کرنل خانصاب کے اس مظاہرے پر زیادہ خوش نہ ہوا اور بولا "اے مین ! تم بڑا کھان ہے، اپنا کوئی کارنامہ بتاؤ، صرف بزرگوں کے کارناموں پر نہ اتراتےرہو"۔ اب خان چپ تھا۔ کچھی میانوالی کی ساری زمینات کے علاوہ دریائے جہلم کے کنارے خوشاب کے نزدیک بھی انگریز دور میں انہیں مربعے الاٹ کیے تھے۔ ۱۹۴۰ کی انگریزوں کی کالونائزیشن پالیسی کی وجہ سے عیسٰی خیلوں کو کافی زمین خانیوال ملتان رحیم یار خان تک الاٹ ہوئی۔ گویا عیسیٰ خیل بڑے جاگیر دار اور خوانین تھے جن کی زمینات میں ہزاروں کسان محنت کش شب و روز خوانین کی محنت کر کےبمشکل اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے نان ِ شبینہ کا کوئی بندوبست کر پاتے تھے۔ پرانے زمانے میں عیسٰی خیل میں بھی ہندوؤں کی تعداد کافی تھی۔ علاوہ خوانین کی ساری جائیدادوں کے عیسٰی خیل کا ایک نامور استاد منشی تلوک چند محروم عیسٰی خیل سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے دریائے سندھ کے کنارے بیٹھ کر اپنی مشہور نظم " سندھ دریا " رقم کی تھی۔ خوشاب کے مقام پر جب شیر شاہ سوری نے ہمایوں مغل بادشاہ کو نیازی افواج کی طاقت سے شکست دی تھی تو تب افغان قوم میں نیازی قوم کے ایک بزرگ و محترم ہستی الشیخ علی شاہباز جو الشیخ جوانمرد کی اولا دسے تھے جنکا ساری افغان قوم میں ازحد احترام کیا جاتا تھا اور جو نیازی شیوخ کہلاتے تھے، شیر شاہ سوری بادشاہ ِ ہند کو فتح کی مبارک دینے کے لیے خوشاب پہنچے۔ جب شیر شاہ کو اس کی آمد کی خبر ہوئی تووہ اپنی مسند سے اٹھ کر بہت دور تک شیخ کی پیشوائی کے لیے چل کر آیا ۔ پٹھانوں کے رواج دستور کے مطابق شیخ نے سلام کر کے اپنا ہاتھ بادشاہ کی طرف بڑھایا ۔ تب شیر شاہ بولا " اے شیخ ایسے نہیں آؤ ایک دوسرے سے چھاتی ملا کر ملتے ہیں اور دونوں نے معانقہ کیا "۔ ان دنوں نیازیوں کی زمینات پر بلوچوں نے قبضہ کر رکھا تھا ۔ وہ زمینات بھی شیر شاہ بادشاہ نے بلوچوں سے واپس لے کر الشیخ علی شاہباز نیازی عطا کر دیں جو دریائے جہلم کے کنارے خوشاب کے قریب تھیں۔ بات تو عیسٰی خیل کی ہےمیں نجانے کہاں نکل گیا۔جہان میں شاہ و گدا، غریب و امیر کی کب دوستی رہی ہے۔ ظالم جاگیرداری کا دور بھی اٹھ گیا۔ چہار جانب اب سرمایہ داری کا ڈنکا بج رہا ہے۔ قصہ ء ماضی تو محض یادگاری کے لیےلکھے جاتے ہیں ۔ جو داستانیں ہوتی ہیں مستقبل پر ان کی پرچھائیوں تک کا سایہ بھی نہیں پڑتا ۔ خوانین عیسیٰ خیل اب سب بڑے شہروں کو منتقل ہو چکے ہیں۔ آج کے عیسٰی خیل میں دھول اڑتی ہے ۔ اس کی خوشحالی کی طرح پسماندگی بھی مثالی ہے۔آج کا عیسیٰ خیل پرانے عیسٰی خیل سے بہت مختلف ہے گو خوانین کے بنگلے اب بھوت بنگلے کا نقشہ پیش کرتے ہیں مگر عام عیسیٰ خیلی بہت ذہین اور شریف الفنس لوگ ہیں۔ پردیسیوں سے ان کا خلوص مشہور ہے۔ آج کی تجارت نئے خطوط پر مرتب ہو چکی ہے۔ سارے ہی بازار بھر کر چلتے ہیں۔ نئے انداز میں مزین شاپس بنی ہیں۔ ویڈیوز کی دکانیں بھرپور ہیں مگر نجانے کیوں سارا عیسٰی خیل باوجود اس سارے بھاگ دوڑ کے کسی بڑے شہر کی رونق کا تاثر نہیں دے پایا ہے اگرچہ میں نے یہاں ایسی کئی پرانی عمارات بھی دیکھی ہیں جن پر پرانی چوبکاری کے اعلی نمونے کے گیٹ نصب ہیں۔ عیسیٰ خیل کا ماحول بیک وقت پہاڑی بھی ہے اور میدانی بھی۔ دریائے سندھ اسکے بہت قریب سے گزرتا ہے اور درحقیقت عیسیٰ خیل ایک گنگا جمنی سنگمکا شہر ہے کہ دریائے کُرم کوہ سلیمان سے نکل کر عیسیٰ خیل میں دریائے سندھ میں آن کر ملتا ہے۔ یہی درہ ء تنگ نیازی پٹھانوں کی پرانی باہمی خانہ جنگی کی رزم گاہ کا میدان بھی بنا تھا جہاں پر مروت پٹھان قبیلے سے نیازیوں کی مدّی کے مقام پر بڑی قبائلی جنگ ہوئی تھی جس میں سرہنگ نیازیوں کا سردار سرہنگ خان مارا گیا تھا یہی مچن خیل اور سرہنگ نیازی شاخیں بعد میں عیسیٰ خیلوں سے جدا ہو کر لکی مروت کے تھل میں جا کر آباد ہو گئیں اور پھر سو سال بعد پھر میانوالی کی موجود جگہوں پر آئیں۔ عیسیٰ خیل ایک سر سبز و شاداب قدیم شہر ہے جس کی آب و ہوا بڑی خوشگوار ہے۔ فراہمی آب کی وجہ سے ساری فصلات اگتی ہیں۔ عیسیٰ خیل میں خوانین اب کم جو بڑے شہروں میں منتقل ہو چکے ہیں اور دیگر غیر نیازی ذاتوں برادریوں کے لوگ جیسے قریشی ، کلو،لیرے،کنیرے،گارے خیل، آہیر، پوڑے،چھینے نجانے کتنے قدیم نسلوں کے لوگ ملتے ہیں۔ خدا کرے ہمارے دیس کے سارے مزدور، کسان، محنت کش، تجار، ملازم سب خوشحال و آباد رہیں۔ اجازت چاہتا ہوں ۔ خدا حافظ
فیروز شاہ

Top