پاکستان کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار

  189   سماجی   September 29, 2020

تحریر

Moeeza Iqbal

September 29, 2020

کسی معاشرے کی ترقی کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ترقی کس شے کا نام ہے۔ اسکی تعریف کیا ہوگی۔  عام طور پر لفظ ترقی سن کر ذہن میں سائنس و ٹیکنالوجی کا خیال آتا ہے مگر میرے نزدیک ترقی سے مراد صرف سائنس یا ٹیکنالوجی کی موجودگی نہیں بلکہ ترقی کا اصل یپمانہ اس معاشرے میں رہنے والے انسانوں کی حالت اور روزمرہ زندگی میں سہولیات کا ہونا ہے۔محض ذاتی آسائش یا مالی خوشخالی نہیں بلکہ اس سے مراد انسانی وجود کی وہ کیفیت ہے جس میں ایک مکمل شخصیت کی نشونما ہوتی ہو۔ اور وہ شخص معاشرے کا فعال اور مثبت رکن بن سکے اور اس کی شخصی نشونما کا ثمر معاشرے کی ترقی کی صورت میں ظاہر ہو۔ مختصراً یوں کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں سائنس، تکنیکی، معاشی و اخلاقی معاملات میں بہتری کا یوں واقع ہونا کہ اس میں رہنے والوں کی Quality of Life میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے اسے ترقی کہتے ہیں۔

نوجوان کسی بھی قوم کا بنیادی ڈھانچہ ہوتے ہیں۔ جس قوم کا نوجوان مضبوط ہوگا اتنی ہی وہ قوم ترقی کرے گی۔کسی بھی قوم کی تعمیر اور ترقی میں نوجوانوں کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جن ممالک نے اپنی نوجوان نسل کو درست سمت میں استعمال کیا ان ممالک کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔جوانی انسانی زندگی کی عمر بہار ہوتی ہے اس عمر کا جوش، ولولہ اورقوت انسان کوکچھ کر دکھانے کا موقع دیتی ہے۔ جب ان کے ذہن میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ سما جاتا ہے تب ان کی صبح وشام ملک وملت کے نام ہو جاتے ہیں اور جب ایسا ہوتاہے تو پھر ہندوستان کی درس گاہوں سے آذادی کی داستانیں رقم ہوتی ہیں۔جب ان نوجوانوں میں جراٗت جاگ جاتی ہے تو خالد بن ولید کو سیف اللہ کا لقب ملتاہے۔ جب ان میں عصمت کی حفاظت کا جذبہ بیدار ہوتا ہے تو سترہ سالہ محمد بن قاسم فاتح سندھ بنتاہے۔

کسی بھی ملک کے نوجوان نہ صرف کل کے لیڈر ہوتے ہیں بلکہ وہ دور حاضرمیں ہر شعبہ میں ایک اہم شراکت داربھی ہیں۔ نوجوان ان پالیسیوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں جو کہ ان کے پالیسی ساز ملکی ترقی کیلئے بناتے ہیں اس لیے نوجوانوں کو ترقی کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور اس ملک کو ترقی یافتہ ملک بنانے میں نوجوانوں کی تخلیقی،علمی، معاشی،سیاسی اور سماجی صلاحیتوں کو ایک مضبوط اور مؤثر انداز میں استعمال کرکے ملک کو ترقی کے ٹریک پر گامزن کرنا پڑے گا کیونکہ پاکستان خوش قسمتی سے وہ ملک ہے کہ جس کی نصف سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

اس کے بر عکس وہ ممالک جو نوجوانوں کی اہمیت کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں وہ ممالک ہر شعبہ ہائے زندگی میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پاکستان میں نوجوان معاشرے کا افسردہ طبقہ بنتے جا رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس ڈگریاں موجود ہیں لیکن ان کے لیے نوکریاں نہیں ہیں۔ یونیورسٹیاں تو موجود ہیں مگر ان میں پیشہ ورانہ تعلیم کا فقدان ہے۔سکول موجود ہیں مگر اشرافیہ اور غریب طبقے کے لیئے تعلیمی فرق موجود ہے۔ یکساں نظام تعلیم نہیں۔ پاکستان میں حکومت ہے مگر ایک مناسب پالیسی نہیں تاکہ ان مسائل کو حل کیا جا سکے حکومت کو چاہئے کہ وہ اس صورت حال کا ادراک کرے اور قوم کے مستقبل کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ بصورت دیگر نوجوان تباہ کن راستوں کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں جو کہ ہمارے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ جن معاشروں میں نوجوانوں کو درست سمت میں ترقی کی راہوں پر گامزن نہیں کیا جاتا ان معاشروں میں پھر جرائم بڑھ جاتے ہیں۔ایسے معاشروں میں نوجوان بحثیت قوم تعمیری عمل سے دور ہو کر تخریبی عمل کی طرف مائل ہوتی ہے۔

ہمارے ملک میں پالیسی میکنگ اورویژن کا شدید فقدان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نیویارک میں 1925میں پارکنگ پلازے بنے تو لوگوں نے سوال اٹھائے کہ ہمارے ہاں تو اتنی گاڑیاں ہی نہیں تو ان پلازوں کی کیا ضرورت مگر ریاست نے کہا کہ آنے والے برسوں میں ہمیں ان کی شدید ضرورت ہو گی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں لانگ ٹر م پلاننگ کی جاتی ہے۔دوسری طرف ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے ایک عام شہری اگلے دن کی پلاننگ نہیں کر پاتا۔ مزدور ایک دن کی دھاڑی سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ سیاست دان کا ویژن اس کے دورِ اقتدار سے آگے نہیں جاتا۔ اور بیوروکریٹ، جج یا جرنیل کا ویژن اپنی پوسٹنگ کی مدت سے آگے نہیں جا تا۔ اسے اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ ٹاسک یا کام جو اس نے شروع کیے ہیں ان کے ساتھ کیا بنے گا۔پالیسیوں کے تسلسل کا شدید فقدان ہمارے ہاں پایا جاتا ہے۔ آنے والی حکومت سابقہ حکومت کی پالیسی کو رول بیک کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں ہم ترقی کی سمت بڑھ ہی نہیں پاتے۔

پاکستان اس وقت مشکل دور سے گزر رہاہے۔ قدرتی وسائل میں تیزی سے کمی ہوتی جا رہی ہے۔معیشت کی ذبوں حالی کا شکارہے۔ زراعت اور بجلی کی کمی کے ساتھ ساتھ پاکستان کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بھی سامناہے۔ اس طرح کے انتشار میں ملک و ملت کو اگر کوئی امید کی کرن نظر آتی ہے تو وہ یہاں کے نوجوان ہی ہیں۔ نوجوان ہی وہ طبقہ ہیں جن کے کندھوں پرقوم کی تعمیر کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ نوجوانوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ملک پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے میں ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ہر فورم پر نوجوانوں کو رواداری اور امن کی فضا کو قائم کرنے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔بد قسمتی سے ہمارے ملک میں مذہبی اور سیاسی رواداری کی کمی کی وجہ سے عدم برداشت بڑھتا جا رہاہے۔ ہمارے نوجوانوں کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مخالفین کے خلاف مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتاہے۔ سیاسی قیادت کی ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ان نوجوانوں کو مربوط پالیسی کے تحت ایک ویژن دیا جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو تعمیری عمل کے لیے استعمال کریں اور ملک وملت کوایک عظیم مقام دلا سکیں۔

اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رھتی

ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد

Top