جہلم کی داستان

  214   ثقافتی   April 29, 2020

تحریر

Dr. Syed Muhammad Azeem Shah

January 27, 2020

 
کبھی سوچا ہے کہ دریا پانی کا ذریعہ ہونے کے علاوہ ہماری زندگی میں کتنی اہمیت رکھتے ہیں؟
نہیں ناں......
ہماری لوک داستانوں میں ان کا اہم کردار ہے. جیسے سوہنی مہیوال کی کہانی میں دریائے چناب کو مرکزی اہمیت حاصل ہے. انہی کے کناروں پر ہڑپہ و موئنجودڑو جیسی عظیم ترین تہزیبیں آباد رہی ہیں. انہیں دریاؤں کو کئی کافیوں، غزلوں، گانوں، نغموں اور شعروں کا حصہ بنایا گیا ہے. انہی پر نثر میں بھی کئی کتابیں لکھی گئیں ہیں. انہی دریاؤں نے بڑے بڑے فاتحین کی پیش قدمیاں روکی ہیں. انہی دریاؤں نے دو شہروں کو آپس میں ملایا ہے. انہی دریاؤں میں محبت کرنے والوں نے جانیں دی ہیں. انہی کے کنارے کالی و درگاہ کے ماننے والوں کے بڑے بڑے میلے لگتے ہیں. انہی کو پَوِتر مان کر لوگ (ہندو دھرم) انہیں پوجتے ہیں. سیاحت میں بھی ان کا بنیادی کردار ہے. بلکہ پاکستان کی ہر بڑی اور خوبصورت وادی کے ساتھ کوئی نہ کوئی دریا منسلک ہے.
انہی سے تجارت، انہی سے خوبصورتی، انہی سے پوِترتا، انہی سے محبت اور سب سے بڑھ کر انہی سے #زندگی. کیونکہ اگر دریا نہ ہوں تو لوگ قحط سے بھوکے مر جائیں.
لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ یہ دریا کیسے ہم تک پہنچتے ہیں؟؟؟
ان کے کنارے پر کیا کیا واقع ہے؟؟
ان کے مُنبع کہاں ہیں اور یہ کہاں اختتام پزیر ہوتے ہیں؟؟
ان کے سینوں پر کب کہاں اور کتنے بند باندھ کر زمین کو سیراب کیا گیا ہے؟؟؟کہاں اور کب ان پر سے ریلوے لائنیں اور سڑکیں گزاری گئی ہیں؟؟؟
سوچیں اگر کبھی ان دریاؤں کو زبان مل جائے اور یہ اپنی کہانی سنانے لگ جائیں تو..... تو یہ کہ ہم سب رات بھرجاگ کر ان کی کہانیاں سنا کریں. اتنی زرخیز داستانوں کے امانت دار ہیں یہ دریا.
چلیں ہم ایک چھوٹی سی کوشش کر کے دیکھتے ہیں. میں آپ کو پاکستان کے دریاؤں کی کہانی ان کی زبانی سناؤں گا. ہم شروع سے آخر تک ان کے ساتھ ساتھ سفر کریں گے اور ان کے کنارے واقع شہروں کا تقابلی جائزہ لیں گے.
تو چلیں شروع کرتے ہیںک کشمیر کے فرزند اور منگلا کی شان جہلم سے.
سری نگر کے 48 میل جنوب میں، تحصیل ویری ناگ (ضلع اننت ناگ/ اسلام آباد) ہے ،جہاں ” کوہِ پیر پنجال” کے خوبصورت اورصنوبر کے درختوں سے ڈھکے پہاڑ ”بانہال” کے دامن میں، 50 فٹ گہرا اور 100 فٹ پر محیط ایک چشمہ ”ویری ناگ” ہے ۔ یہی چشمہ آگے جا کہ کشمیر اور پاکستان کے مشہور دریا ”دریائے جہلم” کو جنم دیتا ہے جو صوبہ پنجاب کا دوسرا جبکہ دریائےسندھ کا سب سے بڑا معاون دریا ہے ۔ ”فرزندِ کشمیر” دریائے جہلم ، جسے ویتھ، وتستا، ہائیڈراپسِس، اور نہ جانے کن کن ناموں سے پکارا جاتا ہے ہندوستان اور پاکستان سمیت وادئ کشمیر کا بھی ایک مرکزی دریا ہے جو نہ صرف ان علاقوں کی زراعت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے بلکہ سامان کی نقل و حرکت کا بھی اہم ذریعہ ہے۔
ویری ناگ نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ویری اس علاقے کا پرانا نام تھا اور ”ناگ” مقامی زبان میں چشمے کو کہتے ہیں جو اس شہر کی وجہ شہرت ہے۔ شروع میں یہ ایک بے ڈھنگا سا چشمہ تھا جس کے کناروں سے پانی اچھل اچھل کہ بہتا رہتا تھا۔ شہنشاہ جہانگیر کی نظر اس پر پڑی تو اُس نےیہاں ایک تالاب اور اسکے اطراف میں ایک خوبصورت باغ بنوایا۔ جہانگیر کی وصیت کے مطابق اسے ویری ناگ کے شاہی باغ میں دفنایا جانا تھا لیکن اسکی بیوی نورجہاں نے اس وصیت پر عمل نہ کیا۔ چشمے کا پانی ایک تالاب میں اکٹھا ہو کر وہاں سے ایک نہر کے ذریعے ”دریائے بیہٹ” میں پہنچایا جاتا ہے۔اس چشمے کی ایک خاص بات اور بھی ہے، وہ یہ کہ مقامی لوگوں کے مطابق سینکڑوں سالوں سےاب تک یہ چشمہ خشک نہیں ہوا۔ویری ناگ سے دریائے جہلم اپنا سفر شمال کی جانب شروع کرتا ہے۔
جگہ جگہ بل کھاتے جہلم میں ”اننت ناگ” کے مقام پر مختلف ندیاں شامل ہو جاتی ہیں۔اننت ناگ سے آگے ”کھنہ بل” کے مقام پر دریائے لیدار/لیڈار جہلم میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہاں سے شمال کی طرف جہلم کے کنارے ” بِج بیہارا” نامی شہر واقع ہے۔ اس شہر کا شمار کشمیر کے پرانے شہروں میں ہوتاہے. اپنے خوبصورت چنار کے باغات کی وجہ سے اسے ”چنار گھر” بھی کہا جاتا ہے۔بِج بیہارا سے چل کر یہ” سنگم” نامی شہر سے گزرتا ہے جہاں اس میں بہت سی ندیوں اور چشموں کا پانی شامل ہوتا ہے۔ سنگم شہر میں ہر سال ایک خاص مہینے ، چاند کی چودہویں تاریخ کوہندوؤں کا سالانہ تہوار منایا جاتا ہے جو ہندوؤں کے مطابق دریا کے جنم کی خوشی میں ہوتا ہے
دریائے جہلم آگے ”ضلع پلوامہ” سے گزر کہ مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت اور باغات کے شہر”سرینگر” میں داخل ہوتا ہے۔سرینگر دو سنسکرِت الفاظ سے بنا ہے سری: دولت اور نگر: شہر۔ شری ”دیوی لکشمی ”کا نام بھی ہے اور شری آفتاب کو بھی کہا جاتا ہے اس لئے سرینگر کا مطلب سورج کا شہر بھی ہو سکتا ہے۔
یہ شہر دریائے جہلم کے دونوں کناروں پر واقع ہے اور مشرق کی طرف سے جھیل ڈل تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں کئی جھیلیں اور دلدل موجود ہیں جن میں ڈل، نگین، آنچار، ہوکرسر، گل سر، خشل سر قابل ذکر ہیں۔ یہاں کی جھیل اور اُن میں تیرتے بوٹ ہاؤس کے سبب سرینگر شہر کو اٹلی کے وینس سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ یہاں کے مغل باغات جیسے پری محل، نشاط باغ، شالیمار باغ بھی کافی مشہور ہے۔ یہاں دریائے جہلم ، جہاں ڈل جھیل کےایک کنارے سے اس میں ضم ہوتا ہے تو وہیں دوسرے کنارے سے نیا جنم لے کر نمودار ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ڈل جھیل جہلم دریا کو ایک نئی زندگی بخشتی ہے۔سرینگر سے 34 کلو میٹر دور ” شادی پورہ” کے مقام پر 108کلو میٹر لمبا ”دریائے سندھ/سند” جہلم میں مل جاتا ہے۔ یہ سندھ وہ نہیں ہے جو پاکستان کا سب سے بڑا دریا ہے، بلکہ یہ ریاست کشمیر کا ہی ایک دریا ہے جو ”درہ زوجیلا” کے قریب گلیشیئر سے نکلتا ہے۔
شمال کا سفر ابھی بھی جاری ہے اور اس بار جہلم کا اگلا پڑاؤ برِاعظم ایشیاء کی سب سے بڑی تازہ پانی کی جھیل ”وولر” ہے جو ضلع ”باندی پورہ ”میں واقع ہے۔اس جھیل کے پانی کا انحصار بھی دریائے جہلم کے پانی پر ہے۔سا ئبیریا کے پرندوں کے سب سے بڑےمسکن، وولر جھیل کے شمالی کنارے پر باندی پورہ شہر آباد ہے جو ضلعی صدر مقام بھی ہے۔یہاں وولر جھیل کے دہانے پر بھارت نے ”سندھ طاس معاہدے” کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ”تل بل بیراج” بنایا ہے جسکا کام 1984 میں شروع کیا گیا۔1987 میں پاکستان کے اعتراضات کے باعث اسکا کام روک دیا گیا لیکن جلد ہی اسے دوبارہ شروع کر دیا گیا۔بھارت کا مؤقف یہ تھا کہ چونکہ دریائے جہلم، وولر جھیل کے جنوب میں واقع وادئی کشمیر کے لیئے ذرائع آمد و رفت اور سامان و رسد کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ ہے ، جس کے لیئے پورے سال دریا میں ایک خاص مقدار تک پانی کا ہونا ضروری ہے۔لہٰذا سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو اسکا حق حاصل ہے۔
وولر جھیل سے پانی لے کہ جہلم اپنا رُخ شمال کی بجائے مغرب کی طرف موڑ لیتا ہے جہاں اسکے کنارے”ضلع بارہ مولا” کا شہر ”سوپور” آباد ہے۔ یہ شہر ایشیا کی دوسری بڑی فروٹ منڈی ہے۔ آگے چل کر ”دوآب گاہ” کے مقام پر ”دریائے تالری” جہلم میں آ گرتا ہے۔پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے اسکی گزر گاہ تنگ ہوتی جاتی ہے۔یہاں سے آگے دریائے جہلم ”بارہ مولا” شہر کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے۔یہاں دریائے جہلم اپنے تمام راستے کے سب سے اونچے مقام پہ بہتا ہے۔بارہ مولا شہر کا پرانا حصہ دریا کے شمال اور نیا حصہ دریا کے جنوب میں آباد ہے۔ دونوں حِصے آپس میں 5 پلوں کے ذریعے ملے ہوئے ہیں۔ بارہ مولا سے آگے چلیں تو پرنگل کے مقام پر ”’اُڑی ہائیڈروپاور پروجیکٹ” بنایا گیا ہے۔480 میگا واٹ کا اُڑی ڈیم،لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہے۔ یہاں سے کچھ دور ہی اُڑی شہر ہے جو بارہ مولا کی تحصیل ہے۔ یہاں ”نالہ حاجی پیر” جہلم کا حِصہ بنتا ہے۔
اُڑی آزاد کشمیر سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے دریائے جہلم ”لائن آف کنٹرول” پار کرتے ہوئے پاکستان کی ریاست آزاد کشمیر میں قدم بوسی فرماتا ہے۔آزاد کشمیر میں جہلم کنارے آباد پہلا شہر، ضلع ہٹیاں بالا کا ”چکوٹھی” ہے۔یہاں مظفرآباد- سرینگر بس سروس کے لیئے ایک چیک پوسٹ بنائی گئی ہے۔اس سے آگے چناری ، ہٹیاں بالا شہر اور گڑھی دوپٹہ سے گزرنے کے بعد دریائےجہلم آزاد کشمیر کے صدر مقام ”مظفر آباد” پہنچتا ہے جہاں ”ڈومیل” کے مقام پر ”دریائے نیلم” (جسے کشن گنگا بھی کہتے ہیں) اس میں ضم ہو جاتا ہے۔ دریائے نیلم، جہلم میں ملنے والے تمام دریاؤں میں سب سے بڑا دریا ہے۔ اس جگہ جہلم پر ایک خوبصورت پل بنایا گیا ہے جسے ”قائدِ اعظم برِج” کا نام دیا گیا ہے۔
یہاں سے دریائے جہلم ایک بار پھر اپنا رُخ بدلتا ہے اور جنوب کی سمت اپنا سفر شروع کرتا ہےکچھ آگے جا کہ وادئی کاغان کا مرکزی دریا” دریائے کُنہار” اپنا آپ جہلم کے سپرد کر دیتا ہے۔یہاں سے جہلم آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کی سرحد پہ بہنا شروع کرتا ہے۔اور کچھ دور جا کردوبارہ آزاد کشمیر کی حدود میں داخل ہو جاتا ہے۔ جہلم کا اگلا سٹاپ ضلع مظفر آباد کا آخری قصبہ ”کوہالہ” ہے جو کوہالہ برِج کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ جہلم پہ بنا یہ پل آزاد کشمیر کو پنجاب کے ضلع راولپنڈی سے مِلاتا ہے۔ یہ جگہ کشمیر،پنجاب اور پختونخواہ کے سنگم پر واقع ہے۔کوہالہ کی ایک خاص بات اور بھی ہے جو بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ برطانوی دور میں کوہالہ میں ایک ریسٹ ہاؤس بنایا گیا تھا اور 1930 میں شاعرِ مشرق، ڈاکٹر علامہ محمد اِقبال نےاسی ریسٹ ہاؤس میں اپنی مشہورِ زمانہ نظم ”ہمالہ” لکھی تھی جو بانگِ درا کی پہلی نظم تھی۔کوہالہ سے ہو کہ جہلم دریا ”ضلع باغ ”سے ہوتا ہوا ”ضلع سدھنوتی” میں داخل ہوتا ہے جہاں ”آزاد پتن” کے مقام پر 700 میگاواٹ کا ”آزاد پتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ” کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔آگے چل کر آزاد پتن کا پل ہے جو اسے راولپنڈی کے علاقے ”کہوٹہ” سے ملاتا ہے۔آگے جنوب میں دریائے جہلم ”ضلع کوٹلی” سے گزر کر (جہاں مغربی سمت راولپنڈی کی جانب کروٹ کے مقام پر ”کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ” زیرِ تعمیر ہے)”ضلع میر پور” کی حدود میں داخل ہوتا ہے جہاں اسکا پاٹ چوڑا ہو جاتا ہے۔ یہاںپیر پنجال سے نکلنے والا ”دریائے پونچھ” چومک کے مقام پر منگلا جھیل کا حِصہ بن جاتا ہے۔یہاں منگلا کے مقام پر دریائے جہلم پہ ،دنیا کا ساتواں بڑا اور پاکستان کا دوسرا بڑا ڈیم ”منگلا ڈیم” تعمیر کیا گیا جہاں سے نکلنے والی ”اپر جہلم کینال” جہلم کو چناب سے ملاتی ہے۔
ڈیم کی تعمیر بھی اپنے آپ میں ایک داستان ہے۔ ڈیم بنانے سے پہلے یہاں موجود منگلا گاؤں خالی کروا لیا گیا تھا ۔موجودہ وقت میں لفظ منگلا ایک بڑے علاقے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس میں منگلا چھاؤنی، منگلا کالونی ، منگلا کا قلعہ اور منگلا ہیملیٹ شامل ہیں۔یہ سکندر اعظم کی افواج کے دریائے جہلم عبور کرنے اور راجہ پورس کی افواج کو شکست دینے کا مقام بھی ہے۔ اِس فتح کی یاد میں سکندرِ اعظم نے اس دریا کے کنارے دو شہر آباد کیئے، پہلا شہر بالکل اسی مقام پر تھا جہاں لڑائی ہوئی تھی۔ اور دوسرا دریا کے اس پار یونانی کیمپ میں بسایا گیا تھا۔ اس شہر کو سکندر اعظم نے اپنے محبوب گھوڑے ”بوسیفالس ”سے منسوب کیا جو اس لڑائی میں کام آیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ جہلم کا موجودہ شہر اس مقام پر آباد ہے۔تاریخ دان منصور شہزاد بٹ کے مطابق بوسیفالس تحصیل پنڈ دادن خان کے علاقے”جلال پور” میں دفن ہے۔ لیکن منڈی بہاؤ الدین کے لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ان کی تحصیل پھالیہ کا نام سکندر کے گھوڑے بوسیفالس کے نام پہ رکھا گیا تھا۔حقیقت کیا ہے یہ تو کوئی نہیں جانتا۔
منگلا ڈیم کی جھیل کے لیئے پرانے میر پور شہر کو خالی کروایا گیا جس کے بدلے میر پور شہر کے باسیوں کو بیرون ملک بھجوانے سمیت معقول معاوضہ بھی ادا کیا گیا۔ جھیل کے کنارے نیا میر پور بسایا گیا۔ آج بھی جب منگلا جھیل میں پانی کم ہوجاتا ہے تو لوگ اپنے شہر اور ٹوٹے گھروں کو دیکھنے جاتے ہیں۔ پانی کا لیول کم ہونے پر پرانے گھر اور مساجد کے مینار جب نظر آتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے بسے بسائے شہر میں سیلاب آ گیا ہو.
منگلا ڈیم سے 7 کلومیٹر جنوب میں دریائے جہلم پر 84 میگاواٹ کا ”بونگ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ” ہے جو پرائیویٹ کمپنی کے زیرِ انتظام ہے۔اور یہاں سے دریائے جہلم شمالاً جنوباً کی بجائے شرقاً غرباً اپنا رُخ موڑ کر پنجاب کے میدانوں میں داخل ہوتا ہے۔
جاری ہے.....
 

Top